مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مقبوضہ فلسطین میں کیے گئے ایک نئے عوامی جائزے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونی وزیر اعظم بنیامین نتانیاهو کی جماعت لیکوڈ کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
گزشتہ روز کیے گئے جائزے کے مطابق اگر اس وقت پارلیمانی انتخابات ہوں تو نتانیاهو کی سربراہی میں لیکوڈ کو صرف 20 نشستیں حاصل ہوں گی، جبکہ گادی آئزنکوٹ کی جماعت 23 نشستیں حاصل کرکے لیکوڈ سے آگے نکل جائے گی۔
جائزے کے مطابق نتانیاهو کی قیادت میں قائم سیاسی اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے پارلیمان میں 61 نشستیں درکار ہیں، تاہم موجودہ صورت حال میں اسے صرف 52 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب نتانیاهو کے مخالف دھڑے کو، جس کی قیادت گادی آئزنکوٹ کر رہے ہیں، 51 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اسرائیل میں آئندہ 27 اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہ انتخابات بظاہر دو بڑے سیاسی دھڑوں کے درمیان مقابلہ ہوں گے۔ پہلے دھڑے کی قیادت بنیامین نتانیاهو کر رہے ہیں اور اس میں دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں شامل ہیں۔
دوسرے دھڑے میں بائیں بازو اور حتیٰ کہ دائیں بازو کی بعض جماعتیں اور ارکان شامل ہیں، تاہم اس دھڑے کو اندرونی اختلافات اور سیاسی انتشار کا سامنا ہے۔
مقبوضہ فلسطین میں ہونے والے ان انتخابات کو اہم اور فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسرائیل گزشتہ تین برس سے کئی محاذوں پر مسلسل جنگ میں الجھا ہوا ہے۔
آپ کا تبصرہ